فهرس الكتاب

الصفحة 229 من 302

رحمہ اللہ رحمہ اللہ:بچے کو مسجد اور باجماعت نماز میں شامل ہونے کا حکم دیا جائے گا،تاکہ وہ ان کا عادی ہوجائے۔

ب:بعض شافعی محدّثین کی رائے:

حضراتِ شافعیہ میں سے بعض محدّثین کرام کی رائے میں باجماعت نماز [فرضِ عین] ہے۔امام نووی باجماعت نماز کے متعلق علمائے شافعیہ کے اقوال ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

'' وَالثَّالِثُ:فَرْضُ عَیْنٍ،لٰکِنْ لَیْسَتْ بِشَرْطٍ لِصِحَّۃِ الصَّلَاۃِ۔وَہٰذَا الثَّالِثُ قَوْلُ اثْنَیْنِ مِنْ کِبَارِ أَصْحَابِنَا الْمُتَمَکِّنِیْنَ فِيْ الْفِقْہِ وَالْحَدِیْثِ:وَہُمَا أَبُوْبِکْرِ ابْنُ خُزَیْمَۃَ وَابْنُ الْمُنْذِرِ ''۔ [2]

''اور تیسرا (قول) : (باجماعت نماز) فرضِ عین ہے،لیکن (جماعت) نماز کی صحت کے لیے شرط نہیں۔یہ تیسرا قول فقہ وحدیث میں رسوخ رکھنے والے ہمارے سربر آوردہ علماء میں سے دو:ابوبکر ابن خزیمہ اور ابن منذر کا ہے۔''

حافظ ابن حجر نے لکھا ہے:

'' وَإِلَی الْقَوْلِ بِأَنَّہَا فَرْضُ عَیْنٍ ذَہَبَ جَمَاعَۃٌ مِنْ مُحَدِّثِيْ الشَّافِعِیَّۃِ کَأَبِيْ ثَوْرٍ،وَابْنِ خُزَیْمَۃَ،وَابْنِ الْمُنْذِرِ،وَابْنِ

[2] کتاب المجموع ۴/ ۷۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت