فهرس الكتاب

الصفحة 248 من 302

حنبلی علمائے کرام کے اقوال سے اخذ کردہ دس نتائج:

۱:باجماعت نماز سے پیچھے رہنے میں معروف شخص کو امام احمد نے [بُرے شخص] کا لقب دیا ہے۔

ب:امام احمد کا اس بارے میں واضح قول یہ ہے،کہ یہ [فرضِ عین] ہے۔اسے چھوڑنے والا گناہ گار ہے،البتہ یہ صحتِ نماز کے لیے شرط نہیں۔

ج:امام احمد سے ایک دوسری روایت کے مطابق نماز کے صحیح ہونے کے لیے جماعت شرط ہے۔بعض حنبلی علماء نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔

د:شدتِ خوف میں سفر کی حالت میں بھی نماز کا باجماعت ادا کرنا [واجب] ہے۔

ہ:کسی کے لیے بھی بلا عذر مسجد میں باجماعت نماز سے پیچھے رہنے کی اجازت نہیں۔

و:کسی کو بلا عذر جماعت چھوڑنے کی اجازت دینا مفتی کے لیے جائز نہیں۔

ز:اہلِ اسلام پر جماعت سے پیچھے رہنے والے شخص کو اس میں حاضری کا حکم دینا ضروری ہے۔ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ گناہ گار ہوں گے۔

ح:مسجد کے پڑوسی کو مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

ط:باجماعت نماز کے ترک پر اصرار کرنے والے شخص کو اس کا حکم دیا جائے گا،اس کی سرزنش کی جائے گی،بلکہ اسے سزا دی جائے گی اور اس کی گواہی ردّ کردی جائے گی۔

ک:اسلامی حکومت باجماعت نماز ترک کرنے والے کے خلاف جنگ کرے گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت