امام مسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا:''بنو سلِمہ [1] نے مسجد (نبوی) کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔
انہوں نے بیان کیا:'' اور (مسجد کے قرب میں) جگہیں خالی تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ (خبر) پہنچی،تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''یَا بَنِيْ سَلِمَۃَ! دِیَارَکُمْ تُکْتَبُ آثَارُکُمْ۔''
''اے بنو سلِمہ! اپنے گھروں (ہی) میں رہو۔تمہارے (قدموں کے) نشانات قلم بند ہوتے ہیں۔''
سو انہوں نے کہا:''مَا کَانَ یَسُرُّنَا أَنَّا کُنَّا تَحَوَّلْنَا۔'' [2]
''ہمیں یہ پسند نہ تھا،کہ ہم منتقل ہوچکے ہوتے۔''
امام نووی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
''مَعْنَاہُ:اِلْزَمُوْا دِیَارَکُمْ،فَإِنَّکُمْ إِذَا لَزِمْتُمُوْہَا کُتِبَتْ آثَارُکُمْ وَخُطَاکُمُ الْکَثِیْرَۃُ إِلَی الْمَسْجِدِ۔'' [3]
''اس سے مراد یہ ہے:اپنے گھروں میں ٹکے رہو،کیونکہ ان میں ٹکے رہنے کی صورت میں مسجد کی طرف اُٹھنے والے تمہارے (قدموں کے) بہت سے نشانات لکھے جاتے ہیں۔''
[2] صحیح مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المساجد، رقم الحدیث ۲۸۔ (۶۶۵) ، ۱؍۴۶۲۔
[3] شرح النووي ۵؍۱۶۹۔