فهرس الكتاب

الصفحة 25 من 302

ا:مسجد کی طرف اُٹھنے والے قدموں کے نشانات کا تحریر کیا جانا:

امام مسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے، (کہ) انہوں نے بیان کیا:''بنو سلِمہ [1] نے مسجد (نبوی) کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔

انہوں نے بیان کیا:'' اور (مسجد کے قرب میں) جگہیں خالی تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ (خبر) پہنچی،تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''یَا بَنِيْ سَلِمَۃَ! دِیَارَکُمْ تُکْتَبُ آثَارُکُمْ۔''

''اے بنو سلِمہ! اپنے گھروں (ہی) میں رہو۔تمہارے (قدموں کے) نشانات قلم بند ہوتے ہیں۔''

سو انہوں نے کہا:''مَا کَانَ یَسُرُّنَا أَنَّا کُنَّا تَحَوَّلْنَا۔'' [2]

''ہمیں یہ پسند نہ تھا،کہ ہم منتقل ہوچکے ہوتے۔''

امام نووی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

''مَعْنَاہُ:اِلْزَمُوْا دِیَارَکُمْ،فَإِنَّکُمْ إِذَا لَزِمْتُمُوْہَا کُتِبَتْ آثَارُکُمْ وَخُطَاکُمُ الْکَثِیْرَۃُ إِلَی الْمَسْجِدِ۔'' [3]

''اس سے مراد یہ ہے:اپنے گھروں میں ٹکے رہو،کیونکہ ان میں ٹکے رہنے کی صورت میں مسجد کی طرف اُٹھنے والے تمہارے (قدموں کے) بہت سے نشانات لکھے جاتے ہیں۔''

[2] صحیح مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المساجد، رقم الحدیث ۲۸۔ (۶۶۵) ، ۱؍۴۶۲۔

[3] شرح النووي ۵؍۱۶۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت