یا جس حالت میں اسے پائے،اسی میں اس کے ساتھ شامل ہو جانا۔
۱۲: اسی طرح تکبیرِ تحریمہ پانا۔
۱۳: صفیں سیدھی کرنا اور ان کا خلا پُر کرنا۔
۱۴: امام کے [سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ] کہنے پر جواب دینا۔
۱۵: بھولنے سے عام طور پر محفوظ رہنا،امام کے سہو پر [سُبْحَانَ اللّٰہ] کہہ کر یا لقمہ دے کر اسے متنبّہ کرنا۔
۱۶: خشوع کے حصول کا زیادہ امکان اور غافل کرنے والی باتوں سے بچ جانا۔
۱۷: (اپنی) حالت غالبًا درست کرلینا۔
۱۸: فرشتوں کا اسے گھیرے میں رکھنا۔
۱۹: قرآن کریم تجوید کے ساتھ پڑھنے کی تربیت پانا اور (نماز کے) ارکان اور (اس کی دیگر) باتیں سیکھنا۔
۲۰: اسلامی شعائر کا اظہار۔
۲۱: عبادت کے لیے اجتماع،نیز نیکی کرنے اور کاہل کو ہوشیار کرنے میں باہمی تعاون کر کے شیطان کو ذلیل کرنا۔
۲۲: (خود کو) نفاق کی خصلت اور دوسروں کو اپنے بارے میں نماز ترک کرنے کی بدگمانی سے بچانا۔
۲۳: امام کو جواب میں سلام کہنا۔
۲۴: لوگوں کے دعا و ذکر کی خاطر اجتماع سے فائدہ اُٹھانا اور (توفیقِ الٰہی سے) کامل کی برکت کا ناقص پر آنا۔
۲۵: پڑوسیوں کے درمیان اُنس واُلفت کے نظام کا قائم ہونا اور اوقاتِ نماز میں ایک دوسرے کی خبر گیری کرنا۔ [1]