عَلٰی عِظَمِ شَأْنِہٖ ''۔ [1]
''شک سے مبرّا بات کی شدید اہمیت اُجاگر کرنے کے لیے قسم کھانے کا اس (حدیث) میں جواز ہے۔''
ب:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی،دوسری اور چوتھی روایتوں میں اپنے ارادے کا اظہار [لَقَدْ ہَمَمْتُ] کے الفاظ کے ساتھ فرمایا۔علامہ عینی لکھتے ہیں:
'' (لَقَدْ ہَمَمْتُ) جَوَابُ الْقَسَمِ أَکَّدَہُ بِ [اللَّامِ،وَقَدْ] ۔وَمَعْنٰی [ہَمَمْتُ] :أَيْ قَصَدْتُّ مِنَ الْہَمِّ،وَہُوَ الْعَزْمُ ''۔ [2]
'' [لَقَدْ ہَمَمْتُ] (میں نے مصمّم ارادہ کیا) (یہ) قسم کا جواب ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تاکید [لام اور قد] کے ساتھ فرمائی اور [ہَمَمْتُ] کا معنٰی [میں نے قصد کیا] اور یہ [ھمّ] سے ہے اور وہ [عزم] ہوتا ہے۔''
ج:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی روایت میں [ایندھن] کے متعلق فرمایا:
'' فَیُحْطَبُ ''۔
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
'' وَمَعْنٰی [یُحْطَبُ] یُکْسَرُ لِیَسْہُلَ اِشْتِعَالُ النَّارِ بِہٖ ''۔ [3]
'' [یُحْطَبُ] کا معنٰی اسے (یعنی ایندھن کو) توڑنا ہے،تاکہ اس کے ساتھ آگ کا بھڑکنا آسان ہوجائے۔''
د:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی اور دوسری روایت میں:'' فَأُحَرِّقُ ''
[2] عمدۃ القاري ۵/ ۱۶۰؛ نیز ملاحظہ ہو: فتح الباري ۲/ ۱۲۹۔
[3] المرجع السابق ۷/ ۱۲۹؛ نیز ملاحظہ ہو: عمدۃ القاري ۵/ ۱۶۱۔