'' کَانُوْا یَسْمَعُوْنَ الْأَذَانَ وَالنِّدَائَ لِلصَّلَاۃِ فَلَا یُجِیْبُوْنَ''۔ [1]
''وہ نماز کے لیے اذان اور نداء سنا کرتے تھے،لیکن اسے قبول نہ کرتے تھے (یعنی جماعت میں شامل نہیں ہوتے تھے) ۔''
۲:حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا:
'' کَانُوْا یَسْمَعُوْنَ [حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ] ،فَلَا یُجِیْبُوْنَ''۔ [2]
''وہ [حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ] سنا کرتے تھے،مگر قبول نہ کرتے۔''
۳:حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا:
''أَيْ یُدْعَوْنَ بِالْأَذَانِ وَالْإِقَامَۃِ،فَیَأْبُوْنَہُ ''۔ [3]
''انہیں اذان واقامت کے ساتھ دعوت دی جاتی،تو وہ اس (یعنی باجماعت نماز کے لیے آنے) سے انکار کرتے۔''
۴:حضرت ابراہیم تیمی نے فرمایا:
'' یَعْنِيْ إِلَی الصَّلَاۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ بِالْأَذَانِ وَالْإِقَامَۃِ ''۔ [4]
''یعنی اذان واقامت کے ذریعے فرض نماز کے لیے (انہیں بلایا جاتا تھا) ''
۵:امام ابن قیم لکھتے ہیں:
'' وَقَدْ قَالَ غَیْرُ وَاحِدٍ مِنَ السَّلَفِ فِيْ قَوْلِہٖ تَعَالیٰ: { وَقَدْ کَانُوْا یُدْعَوْنَ اِِلَی السُّجُودِ وَہُمْ سَالِمُوْنَ } ۔ہُوَ قَوْلُ الْمُؤَذِّنِ:
'' حَيَّ عَلَی الصَّلَاۃِ،حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ ''۔
وَہٰذَا دَلِیْلُ مَبْنِيٌّ عَلَی مُقَدِّمَتَیْنِ:
إِحْدَاہُمَا:أَنَّ ہٰذِہِ الْإِجَابَۃَ وَاجِبَۃٌ۔
[2] ملاحظہ ہو: تفسیر البغوي ۷/ ۱۴۰؛ نیز ملاحظہ ہو: زاد المسیر ۸/ ۳۴۲؛ وتفیسر القرطبي ۱۸/ ۲۵۱۔
[3] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱۸/ ۲۵۱؛ و روح المعاني ۲۹/ ۳۶۔
[4] ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۱۸/ ۲۵۱؛ وروح المعاني ۲۹/ ۳۶۔