امام بخاری نے ان کے متعلق نقل کیا ہے:
'' أَنَّہُ إِذَا فَاتَتْہُ الْجَمَاعَۃُ ذَہَبَ إِلٰی مَسْجِدٍ آخَرَ ''۔ [1]
''بے شک جب ان کی (اپنی مسجد میں) جماعت رہ جاتی،تو وہ دوسری مسجد کی طرف جاتے۔''
ج:سعید بن جبیر رحمہ اللہ تعالیٰ: [2]
امام عبدالرزاق اور امام ابن ابی شیبہ نے ربیع بن ابی راشد کے حوالے سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:
'' رَأَیْتُ سَعِیْدَ بْنَ جُبَیْرٍ جَائَ نَا،وَقَدْ صَلَّیْنَا،فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا،فَخَرَجَ لَہُ ''۔ [3]
''میں نے دیکھا،کہ سعید بن جبیر ہمارے ہاں (مسجد میں) تشریف لائے۔ہم (باجماعت) نماز ادا کرچکے تھے۔انہوں نے (دوسری مسجد میں) مؤذن کو (اقامت کہتے ہوئے) سنا،تو اس کی جانب تشریف لے گئے۔''
[2] سعید بن جبیر: امام، حافظ، مقریء، مفسر، ابومحمد، اسدی، والبی، عظیم اسلامی شخصیات میں سے ایک، حجاج نے انہیں ۹۵ھ میں قتل کیا … جَعَلَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی مِنَ الشُّہَدَائِ … ان کی کنیت ابومحمد کی بجائے ابوعبداللہ بھی ذکر کی گئی ہے۔ (ملاحظہ ہو: سیر أعلام النبلاء ۴/ ۳۲۱ و ۳۴۱) ۔
[3] مصنف عبدالرزاق، کتاب الصلاۃ، باب الرجل یدخل المسجد، فیسمع الإقامۃ في غیرہ، رقم الروایۃ ۱۹۷۳، ۱/ ۵۱۵؛ ومصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الصلوات، الرجل تفوتہ الصلاۃ في مسجد قومہ، ۲/ ۲۰۵۔