فهرس الكتاب

الصفحة 224 من 302

انہوں نے [سنّت] کی وہی تفسیر کی ہے،جو [واجب] کی ہے۔

د:بعض حنفی علماء نے اسے [سنّت] کہا ہے،لیکن ان کا اس سے مقصود یہ نہیں،کہ اسے چھوڑنے پر گناہ نہیں۔ان کی مراد یہ ہے،کہ اس کا [وجوب] سنّت سے ثابت ہوتا ہے۔

ہ:باجماعت نماز اسلامی شعائر میں سے ہے۔

و:کسی مرد کو اسے بلا عذر ترک کرنے کی اجازت نہیں۔

ز:اسے بلا عذر چھوڑنا موجبِ تعزیر ہے۔

ح:اسلامی حکومت پر واجب ہے،کہ اسے بلاعذر چھوڑنے والوں کو تعزیری سزا دے۔

ط:اس کا تارک اسلامی عدالت میں گواہی دینے کے اعزاز سے محروم ہوجاتا ہے۔اس کے شہادت دینے پر اسے مسترد کردیا جائے گا۔

ی:طلبِ علم میں مشغولیت کی وجہ سے اسے چھوڑنے کی اجازت نہیں،اگرچہ وہ علمِ فقہ ہی کیوں نہ ہو۔

ک:اس کے چھوڑنے پر چپ رہنے والا پڑوسی گناہ گار ہوتا ہے۔

ل:کسی شہر والوں کے اسے چھوڑنے پر انہیں اس کے قائم کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ان کے نہ ماننے کی صورت میں ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔

م:مسجد جانے کے لیے اقامت کے انتظار میں بیٹھا رہنے والا شخص [بُرا انسان] ہے۔

کیا اس کے بعد [باجماعت نماز] ترک کرنے کے لیے یہ کہنے کی گنجائش ہے:

''میں حنفی ہوں اور ہمارے نزدیک جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا [سنّت] ہے؟''

فَاعْتَبِرُوْا یَا أُوْلِي الْأَبْصَارِ۔ [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت