''اس سے دریافت کیا جائے:''کیا آدمی کے لیے بلاعذر جماعت چھوڑنے کی اجازت ہے؟''
تو وہ کہے:''ہاں''
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
''میں تمہارے لیے اجازت نہیں پاتا۔''
''اللہ تعالیٰ کے لیے ہمارا جو دین ہے،وہ یہ ہے،کہ کسی ایک کے لیے (بھی) مسجد میں جماعت سے بلا عذر پیچھے رہنا جائز نہیں۔وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ''۔
''جس کسی نے سنّت میں کماحقّہ تدبّر کیا،تو اس کے لیے یہ بات واضح ہوگئی،کہ اس (باجماعت نماز) کا مسجدوں میں ادا کرنا [فرضِ عین] ہے،البتہ بوجۂ عذر جمعہ اور جماعت ترک کرنا جائز ہے۔بلاعذر مسجد میں حاضر نہ ہونا،عذر کے بغیر جماعت چھوڑنے جیسا ہے۔''
حضرت امام رحمہ اللہ کی رائے یہ بھی ہے،کہ [جماعت] [نماز کی صحت کے لیے
[2] المرجع السابق ص ۸۱