فهرس الكتاب

الصفحة 31 من 302

مٹاتے [1] اور درجات بلند فرما [2] دیتے ہیں۔''

انہوں نے عرض کیا:

''بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ۔صلي اللّٰه عليه وسلم۔!''

'' یا رسول اللہ۔صلی اللہ علیہ وسلم۔! ضرور (راہنمائی) فرمایئے۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''إِسْبَاغُ الْوُضُوْئِ عَلَی الْمَکَارِہِ،وَکَثْرَۃُ الْخُطَا إِلَی الْمَسَاجِدِ،وَانْتِظَارُ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ،فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ۔'' [3]

''نہ چاہنے کے باوجود [4] پورا وضو بنانا،مساجد کی طرف بہت سے قدم [5] اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار۔یہی تمہارا رباط ہے۔''

امام مالک کی روایت کردہ حدیث میں ہے:

''فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ،فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ،فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ۔'' [6]

''پس یہی تمہارا رباط ہے،یہی تمہارا رباط ہے،یہی تمہارا رباط ہے۔''

[2] (درجات کی بلندی) : اس سے مراد جنت میں ان کے مراتب کی بلندی ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۳؍۱۴۱) ۔

[3] صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل إسباغ الوضوء علی المکارہ، رقم الحدیث ۴۱۔ (۲۵۱) ، ۱؍۲۱۹۔

[4] (نہ چاہنے کے باوجود) : جیسے شدّت کی سردی ، جسم کی درد وغیرہ کی وجہ سے وضو کرنے کے لیے دل آمادہ نہ ہو ۔ (ملاحظہ ہو: شرح النووي ۳؍۱۴۱) ۔

[5] (مساجد کی طرف بہت سے قدم) : یہ بات گھر کی مسجد سے دُوری اور بار بار آنے سے حاصل ہوتی ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۳؍۱۴۱) ۔

[6] المؤطا ، کتاب قصر الصلاۃ فيْ السفر، باب انتظار الصلاۃ والمشيْ إلیہا، رقم الحدیث ۵۵، ۱؍۱۶۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت