فهرس الكتاب

الصفحة 201 من 380

نہیں ۔ صراط مستقیم لوگوں کی باتیں ، فتوی ، قصے کہانیا ں ، قیل و قال ، ظن و تخمین اور چونکہ چنانچہ نہیں ۔ صراط مستقیم ایک حقیقت کا نام ہے ، اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ کی وحی کہتے ہیں ۔

اسے کون کون تھامے؟ کیاکوئی طبقہ مخصوص ہے ، کہ وہ تھامے اور باقی نہ تھامیں ؟ نہیں ، بالکل نہیں ، بلکہ صراط مستقیم سب کے لئے ہے، سب ہی اسی کو تھامیں ۔

اس لئے آگے فرمایا:

[وَاِنَّہٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ۰ۚ ] [1]

یعنی یہ نصیحت آپ کے لئے اور آپ کی پوری قوم کے لئے ہے ۔ پوری قوم کے لئے ، چا ہے وہ عالم ہو یا عامی،وہ تاجر ہو یا آجر،کچھ بھی ہو۔ البتہ تھامنے کی اپنی اپنی حدود ہیں ، یہ ایک الگ موضوع ہے کہ کون کس طرح تھامے ، لیکن تھامنا، سب نے اس وحی کو ہی ہے ۔ پھر فرمایا:

[وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ] [2]

یعنی ( عنقریب تم سے پوچھ گچھ ہوگی ۔)

ایک اور مقام پر فرمایا:

[وَقِفُوْہُمْ اِنَّہُمْ مَّسْـُٔـوْلُوْنَ ] [3]

یعنی قیامت کے دن پروردگار کی آواز آئے گی کہ روک لوسب کو ! میں نے سب سے باتیں کرنی ہیں ، سب سے سوال کرنے ہیں ۔

[2] الزخرف:۴۴

[3] الصٰفٰت:۲۴

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت