فهرس الكتاب

الصفحة 150 من 672

7.امام الھمام ابن القیم:

''یہ احادیث حسان (حسن لغیرہ) ہیں۔'' (المنار المنیف: ۱۲۰، فقرۃ: ۲۷۱)

یہاں حسان کے معنی ہم نے حسن لغیرہ اس لیے کیے ہیں کہ دوسرے مقام پر حافظ ابن القیم نے فرمایا ہے:

''وفي أسانیدھا لین'' ''اس کی اسانید میں کمزوری ہے۔'' (زاد المعاد: ۲/ ۳۸۸)

8.امام ابن عبد الہادی:

1.''ان میں سے کوئی سند بھی تنقید سے خالی نہیں، لیکن اس بابت حدیث مجموعی سندوں سے بظاہر حسن یا صحیح ہوجاتی ہے۔'' (تعلیقۃ، ص: ۱۴۴)

2.''ان احادیث میں معمولی کلام ہے۔'' (تنقیح تحقیق أحادیث التعلیق: ۱/ ۱۰۴)

9.حافظ عراقی:

''ھذا حدیث حسن''

(محجۃ القرب إلی محبۃ العرب: ۲۴۹، بحوالہ: عجالۃ الراغب المتمنی: ۱/ ۷۰، وتحقیق الإیجاز في شرح سنن أبي داود، ص: ۳۹۲، للشیخ أبي عبیدۃ۔ وإرواء الغلیل: ۱/ ۱۲۳)

10 حافظ ابن کثیر:

1.صحابۂ کرام کی ایک جماعت سے عمدہ اسانید سے حدیث میں (یہ مسئلہ) وارد ہے۔'' (تفسیر ابن کثیر: ۲/ ۲۶)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی کتاب ''الارشاد'' میں رقم زن ہیں:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت