عن حبیب ابن أبي ثابت، عن یحیی بن جعدۃ، عن زید بن أرقم'' کی سند سے بیان کیا ہے۔
اس کی سند میں عبید العطار سخت ضعیف راوی ہے۔ جس کے بارے میں محدثین کی بعض گواہیاں درج ذیل ہیں:
1 امام بخاری رحمہ اللہ ۔ ''عندہ مناکیر'' (التاریخ الکبیر: ۵/ ۴۴۱، الضعفاء الصغیر، رقم: ۲۲۳)
2 امام مسلم رحمہ اللہ ۔ ''متروک الحدیث'' (الکنی: ۱/ ۵۲۸، رقم: ۲۱۰۷)
3 امام نسائی رحمہ اللہ ۔''متروک الحدیث'' (الضعفاء والمتروکین، ص: ۱۷۰، رقم: ۴۲۳، دوسرا نسخہ، رقم: ۴۰۲)
4 امام ابن حبان رحمہ اللہ ۔ ''ممن یروي عن الأثبات ما لا یشبہ حدیث الثقات، لا یعجبنی الاحتجاج بما انفرد من الأخبار'' (المجروحین: ۲/ ۱۷۶)
5 امام ابن عدی رحمہ اللہ: ''وعامۃ ما یرویہ إما أن یکون منکر الإسناد أو منکر المتن'' (الکامل: ۵/ ۱۹۸۷)
دیکھیے: (میزان الاعتدال: ۳/ ۱۸ و لسان المیزان: ۲/ ۳۴۹۔ ۳۵۰)
دوسری علت:
حبیب ابن ابی ثابت کثیر التدلیس مدلس راوی ہیں۔ معجم المدلسین لمحمد بن طلعت (ص: ۱۲۸۔ ۱۲۹) ، طبقات المدلسین لابن حجر (۶۹/۳) ، التدلیس في الحدیث/ د۔ مسفر دمینی (ص: ۲۸۹۔ ۲۹۰) اور روایت معنعن ہے۔