فهرس الكتاب

الصفحة 563 من 672

اس لیے درست نام علی بن عمر بن محمد بن العباس ابوالحسن الرازی القصار الفقیہہ الشافعی ہے۔ اور ان کا یہی درست نام حافظ الخلیلی رحمہ اللہ (الارشاد، ج:۲، ص:۶۹۱) کے علاوہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے خود (سیر أعلام النبلاء، ج:۱۷، ص:۶۱) اور تاریخ الاسلام (حوادث ووفیات: ۳۸۱۔ ۴۰۰ھ، ص:۴۰۰) میں ذکر کیا ہے۔

اسی طرح المستدرک للحاکم (ج:۱، ص:۴۹) میں بھی علی بن محمد بن عمر ہی مذکور ہے، مگر شیخ، محدث الیمن مقبل بن ہادی الوادعی نے اس کی اصلاح فرمائی ہے۔ [رجال الحاکم في المستدرک، ج:۲، ص:۶۸]

تنبیہ (1) : السلسلۃ الصحیحۃ (ج:۳، ص:۱۳۸) اور تہذیب التہذیب (ج:۴، ص:۵۰۵ طبع دار إحیاء التراث العربی) میں الفضیل کے بجائے الفضل ہے۔ درست نام الفضیل یعنی تصغیر کے ساتھ ہے۔

تنبیہ (2) : شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ میں الفضیل کی نسبت ''الہوزی'' مرقوم ہے۔ جبکہ ہوزن بن عوف کی طرف نسبت کرتے ہوئے الہوزنی بنتی ہے۔ یہی نسبت امام بخاری رحمہ اللہ ، امام ابن ابی حاتم اور حافظ سمعانی رحمہم اللہ (الأنساب، ج:۵، ص:۶۵۶) نے ذکر کی ہے۔ حافظ ابن الاثیر الجزری رحمہ اللہ نے امام سمعانی رحمہ اللہ کی متابعت کی ہے۔ [اللباب فی تہذیب الأنساب، ج:۳، ص:۳۹۵]

ایک غلط فہمی کا ازالہ:

امام البانی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں: ایسے آثار حکمًا مرفوع ہوتے ہیں کیوں کہ ان میں رائے کو دخل نہیں ہوتا۔ [السلسلۃ الصحیحۃ، ج:۳، ص:۱۳۸ ملخصًا]

عرض ہے کہ جمہور محدثین کے ہاں صحابۂ کرام کی مخصوص آرا ہی اس حیثیت کی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت