فهرس الكتاب

الصفحة 166 من 672

9.امام نسائی: ''لیس بالقوي'' (تھذیب المزي: ۵/ ۱۲۶)

دوسرا قول: ''ضعیف'' (الضعفاء والمتروکین، ص: ۸۱، رقم: ۱۳۱، والسنن الکبری: ۳/ ۷۷)

10 امام بزار: ''ضعیف الحدیث'' (البحر الزخار: ۵/ ۲۹۶)

''لیس بالقوي'' (البحر الزخار: ۲/ ۲۱۶)

11.امام ابن حبان: ''غالی شیعہ تھا، اپنی مرویات میں بہ کثرت وہم کا شکار ہوتا۔'' (المجروحین: ۱/ ۲۴۶)

12.امام دارقطنی: ''یترک'' (سؤالات البرقاني: ۱۰۰)

''متروک'' (سنن الدارقطني: ۲/ ۱۲۲)

''ضعیف الحدیث'' (العلل للدارقطني: ۶/ ۲۷۱)

13.حافظ ذہبی: ''انھوں نے حکیم کو ضعیف قرار دیا ہے، اسے ترک نہیں کیا گیا۔'' (دیوان الضعفاء، ص: ۷۰)

''اس میں رافضیّت تھی۔ اسے متعدد نے ضعیف قرار دیا ہے، بعض نے اسے قبول کیا ہے اور اس کے معاملے کی تحسین کی ہے۔ اور وہ قلیل الروایۃ ہے۔'' (المغني: ۱/ ۱۸۶)

14.حافظ ابن حجر: ''ضعیف رمي بالتشیع'' (التقریب: ۱۶۰۴)

تنبیہ:

امام یحی بن سعید القطان رحمہ اللہ حکیم سے روایت لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ نے فرمایا:

''ولم یر یحی بحدیثہ بأسًا'' (العلل الصغیر، ص: ۸۹۸، طبع بذیل الترمذي)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت