فهرس الكتاب

الصفحة 66 من 672

''یہ سبھی احادیث مراسیل ہیں۔ بنا بریں بعض بعض کا مؤید ہے ، ہم نے اسے کئی موصول اور مرسل سندوں سے کتاب الفرائض میں ذکر کیا ہے۔

(بیھقي: ۸/ ۱۳۴)

2۔ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''فقد صح حدیث عبد اللّٰه بن جعفر بھذہ الشواھد''المستدرک (۴/ ۳۴۳)

''عبداللہ بن جعفر کی حدیث ان شواہد کی بدولت بلاشبہ صحیح ہے۔''

4.بعض کا بعض سے مل کر تقویت حاصل کرنا:

1۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''إذا ضم بعضھا إلی بعض قویت'' (بیہقي: ۲/ ۴۱۶، ۵/ ۳۱۵)

''جب بعض بعض سے ملتا ہے تو تقویت حاصل کر لیتا ہے۔''

2۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''إذا ضم إلیہ حدیث أبي ذر وأبي الدرداء قوي، وصلح للاحتجاج بہ'' (فتح الباري: ۳/ ۵۴، ۴۹۸)

''جب اس کے ساتھ حضرت ابو ذر، حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی حدیث مل گئی تو وہ قوی ہوگئی اور اس سے احتجاج درست ہوگیا۔''

5.شواہد سے تقویت حاصل کرنا:

امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''وبعض ھذہ الأخبار وإن کان مرسلًا، فإنہ یقوي بشواھدہ مع ما تقدم من الموصول'' (بیہقي: ۶/ ۹۰)

''اس حدیث کی بعض سندیں اگرچہ مرسل ہیں، مگر وہ اپنے شواہد سے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت