5۔ حافظ ابن عدی: ''أرجوا أنہ لا بأس بہ'' (الکامل: ۳/ ۱۰۳۵)
6۔ حافظ ذہبی: ''صویلح، ما ضعف'' (تنقیح التحقیق للذھبي: ۱/ ۴۴)
پھر اسے ''المغنی'' (۱/ ۲۲۷، ترجمہ: ۲۰۸۵) ''دیوان الضعفاء'' (ص: ۹۹) اور ''میزان الاعتدال'' (۲/ ۳۸) میں ذکر کیا ہے۔
7۔ حافظ ابن حجر: ''مقبول'' (التقریب: ۲۰۵۹)
نیز فرمایا: ''مختلف فیہ'' (نتائج الأفکار: ۱/ ۱۷۱)
1۔ امام ابن معین: 1. ''لیس بذاک القوی'' (الجرح والتعدیل: ۷/ ۱۵۱، التاریخ لابن أبي خیثمۃ، ص: ۴۳۹) 2. ''لیس بہ بأس'' (الکامل: ۶/ ۲۰۸۷) 3. ''ضعیف'' (معرفۃ الرجال: ۱۰۴، فقرۃ: ۱۶۴ ۔روایۃ ابن محرز) 4.''ثقۃ'' (الکامل: ۶/ ۲۰۸۷) 5. پہلے ابن معین ''لیس بشيئٍ'' قرار دیتے تھے۔ (التاریخ لابن أبي خیثمۃ، ص: ۴۳۹) 6. کثیر بن عبداللّٰه ''ضعیف الحدیث، وکثیر بن زید أقوی منہ وأصلح حدیثًا'' (تاریخ دمشق: ۵۰/ ۲۴) 7.''صالح'' (تاریخ دمشق: ۵۰/ ۲۴)
2۔ امام احمد: ''ما أری بہ بأسًا'' (العلل و معرفۃ الرجال: ۲/ ۳۱۷، فقرۃ: ۲۴۰۶)
3۔ امام ابن مدینی: ''صالح، ولیس بالقوي'' (سؤالات ابن أبي شیبۃ لابن المدیني، ص: ۹۵)
4۔ امام ابو حاتم الرازی: ''صالح (الحدیث) ، لیس بالقوي، یکتب حدیثہ'' (الجرح: ۱/ ۱۵۱)
5۔ امام ابو زرعہ الرازی: ''صدوق فیہ لین'' (الجرح: ۱/ ۱۵۱)