فهرس الكتاب

الصفحة 225 من 672

مبارک بن فضالہ کے بارے میں کہا:

''وہ شدید التدلیس ہے۔'' (سؤالات الآجري: ۱/ ۳۹۰)

۹۔ امام یحییٰ بن سعید القطان:

''میں مبارک بن فضالہ سے کوئی چیز قبول نہیں کرتا، سوائے اس کے جس میں وہ کہے: حدثنا۔'' (الجعدیات: ۳۲۷۵)

۱۰۔ امام عبدالرحمن بن مہدی:

''مبارک بن فضالہ تدلیس کرتے ہیں۔ ہم ان کی وہی روایت لکھتے ہیں، جس میں وہ کہتے ہیں: سمعت الحسن۔'' (الجعدیات: ۳۲۷۱)

۱۱۔ امام ابن سعد:

''حمید الطویل بسا اوقات انس بن مالک سے تدلیس کرتے ہیں۔'' (الطبقات الکبریٰ: ۷/ ۲۵۲)

مبارک کے بارے میں کہا:

''وہ بہ کثرت تدلیس کرتا ہے۔'' (الطبقات: ۷/ ۳۱۳)

۱۲۔ امام ابو زرعہ:

''مبارک انتہائی زیادہ تدلیس کرتا ہے، جب وہ کہے: حدثنا، تب وہ ثقہ (معتمد علیہ) ہے۔'' (الجرح والتعدیل: ۸/ ۳۳۹)

زکریا بن ابی زائدہ کے بارے میں کہا:

''وہ شعبی سے بہ کثرت تدلیس کرتے ہیں۔'' (الجرح والتعدیل: ۳/ ۵۹۴)

۱۳۔ امام یعقوب بن شیبہ:

انھوں نے محمد بن حازم کے بارے میں کہا:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت