نے ثقۃ بھی قرار دیا ہے اور لیس بالقوي کی جرح بھی کی ہے۔ اور جرح چھ محدثین سے ثابت ہے، لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔
محمد بن عبداللہ الدیباج کی عامر بن واثلہ اللیثی ابو الطفیل نے متابعت کی ہے، اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے (المعجم الکبیر: ۲۲/ ۴۱۷، ۴۱۸، ح: ۱۰۳۰) میں '' عبد الکریم بن یعقوب (!) ، عن جابر، عن أبي الطفیل، عن عائشۃ، عن فاطمۃ'' کی سند سے بیان کیا ہے، مگر یہ سند بھی درج ذیل علل کی وجہ سے ضعیف ہے:
1 جابر جعفی ضعیف اور مشہور رافضی ہے۔ (التقریب: ۸۸۶)
2 عبدالکریم بن یعقوب [1] : عبدالکریم بن یعفور جعفی ابو یعفور سے محرف ہے، جیسا کہ طبرانی میں دوسری جگہ درست نام مذکور ہے۔
(المعجم الکبیر: ۳/ ۹۵، ح: ۲۷۶۷)
ثانیًا: درج ذیل مراجع میں بھی اس کا نام عبدالکریم بن یعفور ابو یعفور وارد ہوا ہے:
التاریخ الکبیر للبخاري (۶/ ۹۱، رقم: ۱۸۰۶) ، الجرح والتعدیل (۶/ ۶۱، رقم: ۳۲۰) ، الکنی لمسلم (۲/ ۹۳۰، رقم: ۳۷۹۵) ، الکنی للدولابي (۲/ ۱۶۹) ، الثقات لابن حبان (۸/ ۴۲۳) ، میزان الاعتدال (۲/ ۶۴۷) ، المغنی (۲/ ۴۰۳) ، تاریخ الإسلام (حوادث ۱۸۱۔ ۱۹۰ھ، ص: ۲۸۱، ۲۸۲) ، المشتبہ للذہبی (۲/ ۶۷۰) ، توضیح المشتبہ لابن ناصر الدین (۵/ ۴۷۱) ، لسان المیزان (۴/ ۵۳، اس کے بعض نسخوں میں ابن یعقوب ہے۔ دوسرا نسخہ ۴/ ۲۴۵) ، الإکمال لابن ماکولا (۷/ ۴۳۶)
ثالثًا: لفظِ یعقوب کا لفظِ یعفور کے ہم شکل و ہم وزن ہونے کی وجہ سے بھی خطا کا احتمال قوی ہے۔