3.عطا بن أبی رباح۔ ''ثقۃ فقیہ فاضل، لکنہ کثیر الإرسال'' (التقریب: ۵۱۶۴)
4.حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔
1.معقل بن مالک۔ ''مقبول'' (التقریب: ۷۶۵۷)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔ (الکاشف: ۳/ ۱۶۳)
2.عقبہ بن عبداللہ الأصم۔ ''ضعیف، وربما دلس'' (التقریب: ۵۲۱۷)
شریک بن عبداللہ:
1.امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے کثیر الغلط قرار دیا ہے۔ (العلل الکبیر، ص: ۱۰۱)
علامہ ابن العربی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ سے ''یتھم (یھم) کثیرًا'' کے الفاظ شریک کے بارے میں نقل کیے ہیں۔ (عارضۃ الأحوذي: ۶/ ۱۲۵)
2.امام بخاری رحمہ اللہ نے شریک کی ایک روایت کو ''لیس بصحیح'' قرار دیا ہے۔ (علل الترمذي، ص: ۳۶)
3.نیز انھوں نے فرمایا:
''اس حدیث میں اضطراب ہے، مجھے معلوم نہیں کہ شریک کے علاوہ اس کا کوئی اور بھی راوی ہے۔ اس نے یہ حدیث (صحیح) ضبط نہیں کی۔''
(علل الترمذي، ص: ۱۸۸)
4.امام ترمذی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
''گویا امام بخاری نے شریک کی روایت محفوظ قرار نہیں دی۔'' (علل الترمذي، ص: ۳۲۹)
ان چاروں اقوال سے معلوم ہوا کہ شریک امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک سيء الحفظ اور ضعیف راوی ہے، جیسا کہ شریک کے بارے میں دیگر اہلِ علم کی رائے