فهرس الكتاب

الصفحة 288 من 672

۴۔ امام یعقوب بن شیبۃ رحمہ اللہ نے محمد بن خازم ابو معاویہ کے بارے میں فرمایا:

''ثقۃ، ربما دلّس'' (سیر أعلام النبلاء: ۹/ ۷۶، تاریخ بغداد: ۵/ ۲۴۹)

۵۔ امام ابو داود رحمہ اللہ ، محمد بن عیسیٰ الطباع کے بارے میں فرماتے ہیں:

''اسے قریبًا چالیس ہزار احادیث حفظ تھیں۔ وہ بسا اوقات تدلیس بھی کرتے تھے۔'' (سؤالات الآجری: ۲/ ۲۴۶، فقرۃ: ۱۷۳۷)

۶۔ امام ابن سعد رحمہ اللہ ، حمید الطویل کے بارے میں فرماتے ہیں:

''ثقہ اور کثیر الحدیث ہے، مگر وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بسا اوقات تدلیس کرتے ہیں۔'' (الطبقات الکبری: ۷/ ۲۵۲)

۷۔ حافظ عجلی رحمہ اللہ ، اسماعیل بن ابی خالد کے بارے میں فرماتے ہیں:

''وکان ربما أرسل الشیٔ عن الشعبي'' (معرفۃ الثقات والضعفاء للعجلي: ۱/ ۲۲۵، تاریخ الثقات: ۶۴)

''کہ وہ (ابن ابی خالد) بسا اوقات شعبی سے ارسال (تدلیس) کرتے ہیں۔''

کثیر التدلیس کی صراحت:

۱۔ امام احمد رحمہ اللہ نے محمد بن اسحق کے بارے میں فرمایا:

''ھو کثیر التدلیس جدا''

''وہ بہ کثرت تدلیس کرتے ہیں۔'' (الجرح والتعدیل: ۷/ ۱۹۴)

۲۔ امام احمد رحمہ اللہ نے ہشیم بن بشیر کے بارے میں فرمایا:

''ھو کثیر التدلیس جدًا'' (المعرفۃ والتاریخ: ۲/ ۶۳۳)

۳۔ امام ابوزرعہ رحمہ اللہ ، مبارک بن فضالۃ کے بارے میں رقمطراز ہیں:

''یدلس کثیرًا'' (الجرح والتعدیل: ۸/ ۳۳۹)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت