فهرس الكتاب

الصفحة 289 من 672

۴۔ زکریا بن ابی زائدہ کے بارے میں ابوزرعہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

''یدلس کثیرا عن الشعبی'' (الجرح والتعدیل: ۳/ ۵۹۴)

''وہ شعبی سے بہ کثرت تدلیس کرتے ہیں۔''

۵۔ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''سوید بن سعید: کان یدلس یکثر ذاک یعنی التدلیس'' (الجرح والتعدیل: ۴/ ۲۴۰)

''سوید بن سعید باکثرت تدلیس کرتے ہیں۔''

۶۔ امام ابوداود رحمہ اللہ ، مبارک کے بارے میں فرماتے ہیں:

''شدید التدلیس'' (سؤالات الآجري: ۱/ ۳۹۰)

۷۔ امام ابن سعید رحمہ اللہ اسی کے بارے میں فرماتے ہیں:

''یدلس کثیرًا'' (الطبقات الکبری: ۷/ ۳۱۳)

۸۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ ایک راوی کے بارے میں لکھتے ہیں:

''کان کثیر التدلیس، الغالب من التدلیس'' (المجروحین: ۲/ ۱۱۲)

۹۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''ابن جریج: یتجنب تدلیسہ فإنہ وحش التدلیس'' (سؤالات الحاکم للدارقطني: ۱۷۴)

''ابن جریج کی تدلیس سے محتاط رہا جائے کیونکہ وہ خطرناک تدلیس کرتے ہیں۔''

۱۰۔ دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''یحیی بن أبی کثیر یدلس کثیرًا'' (التتبع: ۱۲۶)

۱۱۔ امام ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ ، محمد بن محمد الباغندی کے بارے میں لکھتے ہیں:

''خبیث التدلیس'' (تاریخ دمشق: ۵۵/ ۱۷۰)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت