فهرس الكتاب

الصفحة 284 من 672

اگر اس کی ایسی کوئی مثال نہیں تو امام ابن معین رحمہ اللہ کے قول سے ہمارا استدلال بدستور برقرار رہے گا۔

ثالثًا: امام ابن معین رحمہ اللہ کے قول سے یہ ناچیز اکیلا مستدل نہیں، بلکہ درج ذیل علماء کی تائید بھی حاصل ہے۔

مستدلین علماء:

۱۔ دکتور خالد بن منصور الدریس۔ (الحدیث الحسن لذاتہ ولغیرہ: ۱/ ۴۷۵)

۲۔ شیخ عبداللہ بن یوسف الجدیع۔ (تحریر علوم الحدیث: ۲/ ۹۷۳)

۳۔ شیخ محمد بن طلعت نے شیخ جدیع کے احکام مقدمۂ ''معجم المدلسین'' (۳۸) میں ذکر کیے ہیں۔

۴۔ شیخ ناصر بن حمد الفہد۔ (منہج المتقدمین في التدلیس: ۱۶۳)

۵۔ شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن السعد۔ (مقدمۂ منہج المتقدمین: ۲۳)

۶۔ شیخ الشریف حاتم۔ (المرسل الخفي: ۱/ ۴۸۸)

۷۔ شیخ ابراہیم بن عبداللہ اللاحم۔ (الاتصال والإنقطاع: ۳۲۱)

۸۔ دکتور علی بن عبداللہ الصیاح (الموسوعۃ عن الإمام یعقوب بن شیبۃ: ۱/ ۲۰۱، ۲۰۲)

۹۔ دکتور عواد الخلف (روایات المدلسین في صحیح مسلم: ۶۶)

امام ابن مدینی کے قول پر اعتراضات:

امام علی بن مدینی رحمہ اللہ کے قول: ''جب مدلس پر تدلیس غالب ہو تو تب وہ حجت نہیں، یہاں تک وہ اپنے سماع کی توضیح کرے۔'' (الکفایۃ: ۲/ ۳۸۷) پر آٹھ اعتراضات وارد ہوسکتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت