فهرس الكتاب

الصفحة 165 من 672

ابن معین بھی حکیم سے روایت نہیں بیان کرتے تھے۔ (التاریخ الأوسط: ۳/ ۳۲۵)

نیز انھوں نے فرمایا: ''ضعیف'' (الضعفاء للعقیلي: ۱/ ۳۱۷)

4.امام احمد: ''ضعیف الحدیث، مضطرب'' (العلل: ۱/ ۳۹۶، فقرۃ: ۷۹۸)

''لیس بذاک'' (العلل، ص: ۹۰، فقرۃ: ۱۲۲ ۔المروذي)

امام ابن حبان نے فرمایا: امام احمد اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ (المجروحین: ۱/ ۲۴۶)

5.امام ابو حاتم:

''ضعیف الحدیث، منکر الحدیث، لہ رأی غیر محمود، نسأل اللّٰه السلامۃ'' (الجرح والتعدیل: ۳/ ۲۰۲)

''ضعیف اور منکر الحدیث ہے، اس کی رائے اچھی نہیں تھی (شیعہ تھا) ، اللہ تعالیٰ سے ہم سلامتی کے خواستگار ہیں۔''

دوسرے الفاظ میں یوں مذمت کی:

''ضعیف غال في التشیع'' (ضعیف اور تشیع میں غلو کرنے والا ہے) (الجرح والتعدیل: ۳/ ۲۰۲، العلل لابن أبي حاتم: ۱۵۵۳)

''ھو ذاھب في الضعف'' (العلل لابن أبي حاتم: ۲۷۲۴)

6.امام جوزجانی: ''کذاب'' (أحوال الرجال: ۴۸، رقم: ۲۱)

امام جوزجانی غالی شیعہ کو کذاب قرار دیتے ہیں۔

7.امام بخاری: (ذکرہ في الضعفاء الصغیر: ۳۲، والتاریخ الکبیر: ۳/ ۱۶)

انھوں نے فرمایا: شعبہ اس میں کلام کرتے تھے۔ نیز ملاحظہ ہو: العلل الکبیر (۲/ ۹۶۹)

8.امام ابو داود: ''لیس بشيء'' (تھذیب ابن حجر: ۱/ ۵۸۶ ۔طبع: إحیاء التراث)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت