فهرس الكتاب

الصفحة 246 من 672

2.قتادہ بن دعامۃ کو بھی مشہور بالتدلیس قرار دیا ہے۔ (طبقات: ۵۸، ۵۹) مبارکپوری رحمہ اللہ نے بھی ان کے عنعنہ کا تعاقب کیا ہے۔

(أبکار المنن: ۱۳۸، ۲۰۳، ۲۰۶، ۲۶۸، ۳۶۶، ۴۲۱، ۴۹۹، ۵۵۲)

3.محمد بن شہاب زہری کو تیسرے طبقے میں ذکرکیا ہے۔ (طبقات: ۶۲) محدث مبارکپوری رحمہ اللہ کے پیشِ نظر بھی یہی تحقیق ہے۔

(أبکار المنن: ۸۶، ۱۲۳، ۱۳۴، ۵۲۴، ۵۵۱)

مگر راجح یہ ہے کہ وہ طبقۂ ثانیہ کے مدلس ہیں، جیسا کہ آئندہ آئے گا۔ ان شاء اللہ

4.حمید الطویل: ''کثیر التدلیس عن أنس'' (طبقات: ۵۰، أبکار المنن: ۲۶۱، ۴۲۲، ۴۵۶)

5.محمد بن عجلان: (طبقات: ۶۰، أبکار المنن: ۲۱۳، ۳۳۵)

6.سعید بن ابی عروبۃ کو حافظ صاحب نے طبقۂ ثانیہ میں ذکر کیا ہے۔ (طبقات: ۳۹) مگر تقریب میں اس کے برعکس فیصلہ دیتے ہیں:

''کثیر التدلیس و اختلط'' (التقریب: ۲۶۰۸)

''وہ کثیر التدلیس اور مختلط ہیں۔''

محدث مبارکپوری رحمہ اللہ نے اسی قول کو اساس قرار دیا ہے، جس کی صراحت انھوں نے کی ہے۔ (أبکار المنن: ۲۰۵)

اور مختلف مقامات پر ان کی معنعن روایت مسترد کی ہے۔ (أبکار المنن: ۶۲، ۲۰۵، ۲۰۶، ۴۹۹، ۵۳۹)

7.مطلب بن عبداللہ کے بارے میں محدث مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حافظ (ابن حجر رحمہ اللہ ) التقریب میں فرماتے ہیں:

''صدوق کثیر التدلیس والإرسال'' (أبکار المنن: ۲۱۳)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت