فهرس الكتاب

الصفحة 269 من 672

مقبول ہے۔ جس کا انداز ایسا ہو اس کی حدیث قابلِ قبول ہونا ضروری ہے۔ اگرچہ وہ مدلس ہو۔''

(النکت للزرکشي: ۱۸۴، النکت لابن حجر: ۲/ ۶۲۴، فتح المغیث للسخاوي: ۱/ ۲۱۵، تدریب الراوي: ۱/ ۲۲۹)

۲۔ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ:

''اگر مدلس صرف ثقہ سے روایت کرے تو اس نے توقف سے مستغنی کردیا ہے۔ اس کی تدلیس (عنعنہ) کی بابت دریافت نہیں کیا جائے گا۔'' (التمہید: ۱/ ۱۷)

۳۔ حافظ ابوعلی الکرابیسی رحمہ اللہ:

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے ایسا ہی موقف ان سے نقل کیا ہے۔ (شرح علل الترمذي: ۲/ ۵۸۳)

۴۔ حافظ علائی رحمہ اللہ:

''جو آدمی صرف ثقہ سے تدلیس کرنے میں معروف ہو تو وہ جس کے بارے میں ''عن'' وغیرہ کہے، قبول کیا جائے گا۔'' (جامع التحصیل ۱۱۵)

۵۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ:

''مدلس جو ثقات شیوخ سے تدلیس کرے تو کوئی حرج نہیں۔'' (الموقظۃ: ۱۳۲)

۶۔ شیخ ابوعبیدۃ مشہور بن حسن۔ (بھجۃ المنتفع: ۳۸۴)

۷۔ شیخ الشریف حاتم۔ (المرسل الخفی:۱/ ۴۹۲، ۴۹۶)

۸۔ دکتور مسفر بن غرم اللہ ۔ (التدلیس: ۱۱۷)

۹۔ شیخ صالح بن سعید الجزائری۔ (التدلیس: ۱۴۵۔ ۱۴۶)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت