فهرس الكتاب

الصفحة 310 من 672

نووی رحمہ اللہ نے اسنادہ صحیح قرار دیا ہے۔ (المجموع: ۵/ ۳۲۰)

ہمارے نزدیک بھی یہ روایت صحیح ہے، بلکہ اسے کسی نے بھی ضعیف نہیں کہا، مگر محترم زبیر صاحب فرماتے ہیں: ''یہ روایت اسماعیل کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔'' (الحدیث: شمارہ۳۸، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ۲۲، ۲۳، حضرو، اٹک)

۲۔ نووی نے اعمش کی روایت پر حکم لگایا: ''إسنادہ جید، ھذا حدیث حسن'' ''المجموع (۱/ ۳۸۲) الأذکار: (۱/ ۸۲، حدیث: ۵۳) ، ریاض الصالحین'' وغیرہ۔

اس روایت کو دیگر محدثین نے بھی صحیح قرار دیا ہے مگر محترم زبیر صاحب لکھتے ہیں:

''إسنادہ ضعیف، الأعمش مدلس، وعنعن في ھذا اللفظ'' (ضعیف سنن أبي داود: ۴۱۴۱، أنوار: ۱۴۷، وضعیف ابن ماجہ: ۴۰۲، أنوار: ۳۹۲)

''اس کی سند ضعیف ہے۔ اعمش مدلس ہیں۔ انھوں نے یہ لفظ معنعن بیان کیا ہے۔ ''

۳۔ نووی اعمش کی دوسری روایت پر حکم لگاتے ہیں: ''إسنادہ صحیح'' المجموع (۴/ ۲۹۵) محترم زبیر صاحب رقمطراز ہیں:

''إسنادہ ضعیف، الأعمش عنعن'' (ضعیف سنن أبي داود: ۵۹۷، أنوار: ۳۵)

''اس کی سند ضعیف ہے، اعمش نے عنعنہ سے بیان کیا ہے۔''

۴۔ حسن بصری کی روایت کے بارے میں امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''حدیث صحیح: رواہ أبو داود … بأسانید صحیحۃ''

(المجموع: ۲/ ۸۸، الأذکار: ۱/ ۹۰، حدیث: ۸۱، الإیجاز في شرح سنن أبي داود: ۱۳۵)

''صحیح حدیث ہے۔ ابو داود نے … اسے صحیح سندوں سے روایت کیا ہے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت