فهرس الكتاب

الصفحة 576 من 672

1 یہ روایت ابو العالیہ کی مرسل ہے۔

2 اس کی سند منصور عن ابن سیرین و خالد عن حفصۃ۔۔۔ ہے۔

منصور عن الحسن عن معبد نہیں، جس طرح امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔

ہشیم اسی حدیث کو ابن سیرین کی متابعت کے بغیر بھی خالد الحذاء کی سند سے ذکر کرتے ہیں۔ (سنن الدارقطني: ۱/ ۱۶۸، حدیث: ۲۵)

اس سند میں ہشیم کی متابعت سفیان ثوری (دارقطنی: ۱/ ۱۶۸، ح: ۲۶، ۲۷، الکامل: ۳/ ۱۰۲۹، الخلافیات: ۲/ ۳۷۶، رقم: ۶۹۳) اور حماد بن زید (سنن الدارقطنی: ۱/ ۱۶۸، ح: ۲۸) نے کی ہے۔

حافظ ابن عدی رحمہ اللہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی سند کو مرجوح قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

''وأصحاب منصور بن زاذان صاحب المختص فیہ ہشیم بن بشیر، لأنہ من أھل بلدہ وأبي عوانۃ ھذا الحدیث لا موصولًا ولا مرسلًا، فأخطأ أبو حنیفۃ في إسناد ھذا الحدیث ومتنہ، لزیادتہ في الإسناد معبد، والأصل عن الحسن مرسلًا، وزیادتہ في متنہ القھقھۃ، ولیس في حدیث أبي العالیۃ مع ضعفہ وإرسالہ القھقھۃ'' (الکامل: ۳/ ۱۰۲۸)

حافظ ابن عدی رحمہ اللہ کے اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ منصور شہر واسط کے باشندے اور محدث ہیں ان کے دو شاگرد (ہشیم اور ابو عوانہ وضاح بن عبداللہ الیشکری) بھی اس شہر کے رہائشی ہیں۔ بلکہ ہشیم تو منصور کے خاص شاگرد ہیں، ان سب کے باوجود وہ اس حدیث کو امام حسن بصری سے موصولًا بیان کرتے ہیں اور نہ مرسلًا۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس سند اور متن میں غلطی کی ہے۔ سند میں غلطی یہ کہ انھوں نے معبد کے واسطے کا اضافہ کیا ہے، جبکہ یہ حدیث حسن بصری

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت