فهرس الكتاب

الصفحة 634 من 672

اسرائیل بن یونس: ''ثقۃ تکلم فیہ بلا حجۃ'' (التقریب: ۴۵۰)

ابو وائل شقیق بن سلمۃ: ''ثقۃ مخضرم'' (التقریب: ۳۱۱۶)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی اور تیسرے خلیفہ راشد ہیں۔

عامر بن شقیق:

عامر کے بارے میں محدثین کی آرا ملاحظہ ہوں:

1 امام ابن معین: ''ضعیف الحدیث'' (الجرح والتعدیل(۶/ ۳۲۲)

امام ابن معین رحمہ اللہ نے عامر کی اس حدیث کو اس کی وجہ کی سے ضعیف قرار دیا ہے۔ (التاریخ الکبیر لابن أبي خیثمۃ، ص: ۵۸۸، فقرۃ: ۱۴۰۹)

2 امام احمد: انھوں نے عامر پر تنقید کی ہے۔ (العلل و معرفۃ الرجال للإمام أحمد، ص: ۸۱، فقرۃ: ۹۹ ۔ روایۃ المروذي)

امام احمد نے فرمایا: ''لیس بثقۃ'' (الإکمال للمغلطائي: ۷/ ۱۳۷)

3 امام ابو حاتم: ''شیخ لیس بقوي'' (الجرح والتعدیل: ۶/ ۳۲۲)

4 امام ابن حزم: ''لیس مشھورًا بقوۃ النقل''

''وہ صحیح ضبط کرنے میں مشہور نہ تھا۔'' (المحلی: ۲/ ۳۶)

5 امام نسائی: ''لیس بہ بأس'' (تھذیب المزي: ۹/ ۳۵۷)

6 امام ابن حبان: اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے۔ (کتاب الثقات: ۷/ ۲۴۹)

7 امام حاکم: ''مجھے عامر بن شقیق کے بارے میں جرح کی کوئی (معقول) وجہ معلوم نہ ہوسکی۔'' (المستدرک: ۱/ ۱۴۹)

8 امام ذہبی: ''صدوق ضعف'' (الکاشف: ۲/ ۵۵)

9 حافظ ابن حجر: ''لین الحدیث'' (التقریب: ۳۴۱۸)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت