فهرس الكتاب

الصفحة 110 من 223

[عقبہ نے] کہا:'' جب کوئی یہ کلمات کہتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ اب یہ میرے شر سے تمام دن کے لیے محفوظ ہو گیا'' [1]

خامسًا:نماز شروع کرتے وقت:

(( اللّٰہُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَ نَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ ) ) [2]

'' پناہ حاصل کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی ؛ شیطان مردود سے اور اس کی پھونک اور اُس کے تھوک اور اسکے وسوسے سے ۔''

سادسًا: نمازمیں: حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:'' یا رسول اللہ! شیطان میری نماز اور قرات کے درمیان حائل ہوگیا اور مجھ پر نماز میں شبہ ڈالتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''اس شیطان کو خنزب کہا جاتا ہے۔ جب تو ایسی بات محسوس کرے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کر اور اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوک دیا کر۔''

پس میں نے ایسے ہی کیا تو شیطان مجھ سے دور ہوگیا۔'' [3]

سابعًا:نیند میں گھبراہٹ کے وقت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' جب تم میں سے کوئی شخص اچھا خواب دیکھے تو و ہ اللہ کی طرف سے ہے اس پر الحمد للہ

[2] صحیح ابن ماجۃ (۸۰۸) ۔

[3] مسلم (۲۲۰۳) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت