فهرس الكتاب

الصفحة 16 من 223

میں سے مریض کو پلایا بھی جائے اورباقی پانی اس کے جسم پر ڈال دیا جائے۔

جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ پر دم کیا تھا۔ [1]

اگر دم کرنے کے لیے آب زمزم میسر آجائے تو یہ زیادہ اکمل ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کے متعلق فرمایا ہے:

(( إنہا مبارکۃ، إنہا طعام طعم، و شفاء سقم، و'' ماء زم زم لما شرب لہ ''''فإن شربتہ تستشفی بہ شفاک اللّٰہ'' ) )

''بیشک زمزم ایک مبارک پانی ہے۔''

''یہ کھانے والے کے لیے کھانا ہے'' [2]

اور '' بیماری کے لیے شفاء ہے '' [3]

اور'' زمزم سے وہ مقصد پورا ہوتا ہے جس کے لیے اسے پیا جائے۔ '' [4]

''اگرتم زمزم پیتے ہوئے اپنی بیماری سے شفاء کے طلب گار ہوگے تو اللہ تعالیٰ تمہیں شفاء دے گا۔ '' [5]

[2] صحیح مسلم (۲۴۷۳) ۔

[3] صحیح الترغیب والترہیب للألباني (۱۱۶۱) ۔

[4] صحیح ابن ماجۃ للألباني (۳۰۶۲) ۔

[5] المستدرک للحاکم ؛ وقد صحح ہذہ الزیادۃ (۱؍۴۷۳) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت