فهرس الكتاب

الصفحة 125 من 302

[بَابٌ فِيْ التَّشْدِیْدِ فِيْ تَرْکِ الْجَمَاعَۃِ ] [1]

[جماعت ترک کرنے پر سختی کے متعلق باب]

۲: امام ابن ماجہ نے اسے درجِ ذیل عنوان والے باب میں روایت کیا ہے:

[بَابُ التَّغْلِیْظِ فِيْ التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَۃِ ] ۔ [2]

[جماعت سے پیچھے رہنے پر درشتی کے بارے میں باب]

۳: امام ابن منذر لکھتے ہیں:

'' وَدَلَّ عَلٰی تَأکِیْدِ أَمْرِ الْجَمَاعَۃِ قَوْلُہٗ صلي اللّٰه عليه وسلم:''مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ یُجِبْہُ فَلَا صَلَاۃَ لَہُ ''۔ [3]

''آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد [ترجمہ:جس شخص نے اذان سن کر اسے قبول نہ کیا،[4] تو اس کی نماز نہیں] جماعت کے حکم کی تاکید کرتا ہے۔''

۴: امام ابن حبان نے اس پر حسبِ ذیل عنوان لکھا ہے:

[ذِکْرُ الْخَبْرِ الدَّالِّ عَلٰی أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ حَتْمٌ لَا نَدْبٌ ] [5]

[اس بات پر دلالت کرنے والی حدیث کا ذکر،کہ یہ[یعنی باجماعت نماز ادا کرنے کا] حکم حتمی ہے،استحباب کے لیے نہیں]

۵: امام بغوی اسے روایت کرنے کے بعد رقم طراز ہیں:

'' اِتَّفَقَ أَہْلُ الْعِلْمِ عَلٰی أَنَّہُ لَا رُخْصَۃَ فِيْ تَرْکِ الْجَمَاعَۃِ لِأَحَدٍ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ ''۔ [6]

''اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے،کہ کسی کے لیے (بھی) ترکِ جماعت

[2] سنن ابن ماجہ ۱/ ۱۴۲

[3] الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف، کتاب الإمامۃ، ۴/ ۱۳۵۔

[4] یعنی باجماعت نماز ادا کرنے کی غرض سے مسجد میں حاضر نہ ہوا۔

[5] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان ۵/ ۴۱۵۔

[6] شرح السنۃ ۳/ ۳۴۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت