فهرس الكتاب

الصفحة 126 من 302

کی اجازت نہیں۔''

ب:اس بارے میں بعض صحابہ کے اقوال:

امام ترمذی لکھتے ہیں:

'' وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَیْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم أَنَّہُمْ قَالُوْا:'' مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ فَلَمْ یُجِبْ،فَلَا صَلَاۃَ لَہُ ''۔

''متعدد صحابہ سے نقل کیا گیا ہے،کہ انہوں نے فرمایا:''جو شخص اذان سن کر (باجماعت نماز کے لیے) نہ آیا،تو اس کی نماز نہیں۔'' [1]

بطورِ مثال ذیل میں تین صحابہ کرام کے اقوال ملاحظہ فرمائیے:

ا:حضراتِ ائمہ عبدالرزاق،ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے فرمایا:

'' لَا صَلَاۃَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِيْ الْمَسْجِدِ ''۔

''مسجد کے پڑوسی کی مسجد کے علاوہ نماز نہیں۔''

انہوں [راوی] نے بیان کیا:'' (ان کی خدمت میں) عرض کیا گیا:

'' وَمَنْ جَارُ الْمَسْجِدِ؟''

''اور مسجد کا پڑوسی کون ہے؟''

انہوں نے فرمایا:

'' مَنْ أَسْمَعَہُ الْمُنَادِيْ ''۔ [2]

[2] مصنف عبدالرزاق، کتاب الصلاۃ، باب من سمع النداء، رقم الروایۃ ۱۹۱۵، ۱/ ۴۹۷۔ ۴۹۸؛ ومصنف ابن أبي شیبۃ، کتاب الصلوات، باب من قال: ''إذا سمع المنادي فلیجب''، ۱/ ۴۳۹؛ والأوسط في السنن والإجماع والاختلاف، کتاب الإمامۃ، ذکر تخوّف النفاق علٰی تارک شہود العشاء والصبح في جماعۃ …، رقم الروایۃ ۱۹۰۷، ۴/ ۱۳۷۔ الفاظِ روایت مصنف عبدالرزاق کے ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو: المحلّٰی ۴۸۵۔ مسألۃ … ۴/ ۲۷۴۔ ۲۷۵۔ المحلّٰی کے محقق نے اس کی [سند کو صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المحلّٰی ۴/ ۲۷۵) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت