فهرس الكتاب

الصفحة 149 من 302

[باجماعت نماز کے وجوب کے متعلق باب]

۲:امام نووی نے پہلی اور دوسری روایت درجِ ذیل عنوان والے باب میں ذکر کی ہیں:

[بَابُ فَضْلِ صَلَاۃِ الْجَمَاعَۃِ وَبَیَانِ التَّشْدِیْدِ فِيْ التَّخَلُّفِ عَنْہَا] [1]

[باجماعت نماز کی فضیلت اور اس سے پیچھے رہنے والے کے بارے میں سختی کے بیان کے متعلق باب]

۳:امام ابوداؤد نے چوتھی حدیث حسبِ ذیل عنوان والے باب میں روایت کی ہے:

[بَابُ التَّشْدِیْدِ فِيْ تَرْکِ الْجَمَاعَۃِ] [2]

[ترکِ جماعت کے متعلق سختی کے بارے میں باب]

۴:امام ابن خزیمہ نے پہلی روایت پر حسبِ ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

[بَابُ فِيْ التَّغْلِیْظِ فِيْ تَرْکِ شُہُوْدِ الْجَمَاعَۃِ] [3]

[جماعت سے غیر حاضری کے بارے میں سختی کے متعلق باب]

۵:امام ابن حبان نے پہلی روایت پر درجِ ذیل عنوان قلم بند کیا ہے:

[ذِکْرُ الْأَخْبَارِ عَمَّا أَرَادَ صلي اللّٰه عليه وسلم اِسْتِعْمَالَ التَّغْلِیْظِ عَلٰی مَنْ تَخَلَّفَ عَنْ حَضُوْرِ صَلَاۃِ الْعِشَائِ وَالْغَدَاۃِ فِيْ جَمَاعَۃٍ ] ۔ [4]

[آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء وفجر کی باجماعت نمازوں سے پیچھے رہنے والوں کے متعلق جس سختی کا ارادہ فرمایا،اس کے متعلق حدیث کا ذکر]

۶:حافظ ابن حجر پہلی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

'' وَأَمَّا حَدِیْثُ الْبَابِ فَظَاہِرٌ فِيْ کَوْنِہَا فَرْضَ عَیْنٍ،لِأَنَّہَا لَوْ کَانَتْ سُنَّۃً لَمْ یُہَدِّدْ تَارِکَہَا بِالتَّحْرِیْقِ،وَلَوْ کَانَتْ فَرْضَ

[2] سنن أبي داود ۲/ ۱۷۸۔

[3] صحیح ابن خزیمۃ ۲/ ۳۶۹۔

[4] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان ۵/ ۴۵۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت