جنتوں میں لے جاتے۔
کیونکہ اللہ کی آیتوں سے وہی لوگ استفادہ کرتے ہیں ' چنانچہ یہ آیتیں انہیں ہدایت کی راہ دکھاتی ہیں ' انہیں نصیحت کرتی ہیں اور انہیں ضلالت کی راہ سے روکتی ہیں،ارشاد باری ہے:
{هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ} [1]
عام لوگوں کے لئے تو یہ (قرآن) بیان ہے اور پرہیز گاروں کے لئے ہدایت و نصیحت ہے۔
اور فرمان باری تعالیٰ: {هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ۔۔} یعنی اس قرآن کو اللہ نے سارے لوگوں کے لئے عمومی طور پر بیان ' اور متقیوں کے لئے خصوصی طور پر ہدایت و نصیحت کا ذریعہ بنایا ہے،یہ حسن اور قتادہ رحمہا اللہ کا قول ہے ' [2] اور حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی یہی بات جزم کے ساتھ
[2] جامع البیان عن تاویل آی القرآن،للطبری ۷/۲۳۲۔