کل الحوادث مبدأھا من النظر
ومعظم النار من مستصغر الشرر
کم نظرۃ بلغت من قلب صاحبھا
کمبلغ السھم بین القوس والوتر
والعبـد مـادام ذاطرف یقلـبہ
في أعین الغیر موقوف علی الخطر
یسـر مـقلتہ مـا ضـر مھـجتہ
لا مرحبًا بسرور عاد بالضرر [1]
تمام حادثات کی ابتدا نگاہ ہی سے ہواکرتی ہے اور اکثر و بیشتر آگ معمولی چنگاریوں ہی سے لگتی ہے،بہت سی نگاہیں نگاہ بازکے دل میں اس حد تک اثر انداز ہوجاتی ہیں جہاں تک قوس اور دھاگے کے درمیان سے تیر جا پہنچتا ہے،اور بندہ جب تک غیروں سے نگاہیں چارکرتا رہتا ہے خطرہ کی آغوش میں ہوتا ہے،وہ اپنی آنکھ کو لذت پہنچاتا ہے لیکن اس کے خون