قدم میں ثواب کا اضافہ نہ ہو تو اسے روکے رکھنا ہی اس کے لئے بہتر ہے' اور اس کے لئے ممکن ہے کہ اللہ کے تقرب کی نیت سے اپنے قدم سے ہر جائز ومباح چیز سے بھی نکل جائے تاکہ نیک نیتی کے سبب اس کے سارے قدم اللہ کی قربت ہی میں واقع ہوں۔ [1]
اللہ عز وجل نے اپنے بندوں کو ان کی باتوں اور قدموں میں استقامت کے وصف سے متصف فرمایا ہے،ارشاد ہے:
{وَعِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا} [2]
رحمن کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نگاہوں اور دل کی دھڑکنوں کو بھی یکجا ذکر فرمایا
[2] سورۃ الفرقان: ۶۳۔