فهرس الكتاب

الصفحة 152 من 262

کے ساتھ کوئی گناہ صغیرہ نہیں ہوتا۔

(۲) گناہ کو معمولی اور حقیر سمجھنا: چنانچہ اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے' وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:

'' يا عائشةُ إيّاكِ ومحقراتِ الأعمالِ فإنَّ لها مِنَ اللّٰہِ طالِبًا '' [1]

اے عائشہ! حقیر اعمال (چھوٹے گناہوں) سے بچو' کیونکہ اللہ کی جانب سے اس کا ایک طلب کرنے والا (نگراں) ہے۔

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ' وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' إيّاكم ومُحَقَّراتِ الذنوبِ،كقومٍ نَزَلوا في بطنِ وادٍ،فجاءَ ذا بعُودٍ،وجاء ذا بعُودٍ،حتى أنْضَجوا خُبزَتَهم،

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت