دشمن کی قید میں ہو اس سے زیادہ بد حال قیدی کوئی نہیں ' نہ خواہشات کی بندش سے تنگ کوئی بندش ہے اور نہ ہی شہوت کی قید سے پریشان کن کوئی قید و بند،چنانچہ جو دل کسی کی قید و بند میں ہو وہ اللہ اور دار آخرت کی طرف کیسے چل سکتا ہے؟ واللہ المستعان۔ [1]
(۳۰/۱۱) گناہ گنہ گار کو سافلین (نچلے اور پست طبقے والوں) میں سے بنادیتا ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو دو طرح سے پیدا فرمایا ہے: علیہ (اونچے اور بلندطبقے والے) اور سفلہ (نیچے اور پست طبقے والے) ' اورعلیہ کا ٹھکانہ علیین بنایا ہے اور سفلہ کا ٹھکانہ پست کردیا ہے (سافلین بنایا ہے) ' نیز اپنے اطاعت گزاروں کو دنیا و آخرت میں سربلندی عطافرمائی ہے اور اپنے نافرمانوں کو دنیا و آخرت میں ذلت و پستی کی تہوں میں ڈال دیا ہے۔ [2]
(۳۱/۱۲) گناہ کرامت و بزرگی کو ختم کردیتا ہے،گناہوں کا انجام اللہ
[2] دیکھئے: الجواب الکافی لمن سأل عن الدواء الشافی،لابن القیم،ص ۱۶۱۔