وغیرہ میں بیوی سے ہمبستری کرلینے اور قسم کے کفارے ہیں۔
تعزیرات (تنبیہی سزائیں) :یہ سزائیں مسلمان حاکم کی صوابدید پر مبنی ہیں ' وہ ان کے ذریعہ زجر و توبیخ کرتا ہے ( [1] ) تنبیہی سزائیں حدود کے درجہ تک نہیں پہنچتیں،الا یہ کہ جرم بہت سنگین ہوتو تعزیر قتل تک بھی پہنچ سکتی ہے،اور یہ تمام چیزیں حاکم کی خواہش نفس کے مطابق نہیں بلکہ شرعی قواعد کے مطابق ہیں۔ [2]
(۳۴/۲) قدری سزائیں:اس کی دوقسمیں ہیں:
[2] مجلۃ البحوث الاسلامیہ،مجریہ از رئاسۃ البحوث العلمیہ (شمارہ:۲۱،ص ۳۵۵) میں نشا آور اشیاء کی اسمگلنگ کرنے اور اس کی ترویج کرنے والے کے بارے میں ہیئۃ کبار العلماء کی قرار داد نمبر: (۱۳۸) ملاحظہ فرمائیں۔