فهرس الكتاب

الصفحة 50 من 262

والے باغات کی شکل میں ان کی جزا بیان فرمائی کہ (یہ نعمتیں ایسی ہوں گی) جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا' نہ کسی کان نے ان کے متعلق سنا اور نہ ہی کسی فرد بشر کے دل میں کھٹکا (اس کا حقیقی تصور آیا) ۔ [1]

پنجم: اللہ عز وجل کا ارشاد ہے:

{إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ15} آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ {16} كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ {17} وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ {18} وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [2]

بیشک تقویٰ والے لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے۔ان کے رب نے انہیں جو کچھ عطا فرمایا ہے اسے لے رہے ہوں گے وہ تو اس سے پہلے ہی نیکو کار تھے۔وہ رات کو بہت کم سویا کرتے

[2] سورۃالذاریات: ۱۵تا ۱۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت