'' إنَّ اللّٰہَ يحبُّ العبدَ التَّقيَّ الغنيَّ الخفيَّ '' [1]
بیشک اللہ تعالیٰ تقویٰ شعار' مالدار (بے نیازی کا اظہار کرنے والا) ' پوشیدہ (گمنام) بندے سے محبت کرتا ہے۔
امام قرطبی اور امام نووی رحمہما اللہ نے ذکر کیا ہے کہ: مالدار سے مراد 'نفس کی مالداری و بے نیازی' ہے،یہی اس کا پسندیدہ مفہوم ہے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
'' ليسَ الغِنى عن كَثْرَةِ العَرَضِ،ولَكِنَّ الغِنى غِنى النَّفْسِ '' [2]
مالداری زیادہ ساز وسامان کی نہیں ' بلکہ مالداری دراصل نفس کی مالداری و بے نیازی ہے۔
[2] متفق علیہ،بروایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ: صحیح بخاری،کتاب الرقاق،باب الغنی غنی النفس،۷/ ۲۸۸،حدیث نمبر: (۶۴۴۶) ومسلم،کتاب الزکاۃ،باب لیس الغنی عن کثرۃ العرض،۲/۷۲۶،حدیث نمبر: (۱۰۵۱) ۔