بھی جانتا ہے۔
نیز ارشاد ہے:
{الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ218} وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ [1]
جوتجھے دیکھتا رہتا ہے جب تو کھڑا ہوتا ہے۔اور سجدہ کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی۔
۲- شبہات: امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
''فتنوں کی دو قسمیں ہیں: ایک شبہات کا فتنہ جوکہ دونوں میں سے عظیم تر ہے اوردوسرے شہوات (خواہشات) کا فتنہ ' کبھی بندہ دونوں فتنوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور کبھی ایک میں۔'' [2]
چنانچہ شبہات کا فتنہ بصیرت کی کمزوری' علم کی کمی'نیت کی خرابی' خواہش نفس کا حصول اور فاسد سمجھ سے وجود پاتا ہے اور کبھی جھوٹی خبر سے ' کبھی
[2] اغاثۃ اللھفان مصاید الشیطان،۲/۱۶۵۔