ثابت شدہ حق سے لا علمی کی بنا پر اور کبھی فاسد غرض اور خواہش نفس کی اتباع سے ' الغرض شبہات کا فتنہ بصیرت کے اندھے پن اور ارادہ کی خرابی کے سبب ہوتا ہے۔ [1]
۳- شہوات (خواہشات نفس) : اللہ تعالیٰ نے شبہات اور خواہشات نفس کو درج ذیل آیت کریمہ میں اکٹھا بیان فرمایا ہے:
{كَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ كَانُوا أَشَدَّ مِنكُمْ قُوَّةً وَأَكْثَرَ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا فَاسْتَمْتَعُوا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُم بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُم بِخَلَاقِهِمْ وَخُضْتُمْ كَالَّذِي خَاضُوا} [2]
ان لوگوں کی طرح جو تم سے پہلے تھے ' وہ تم سے زیادہ قوت والے اور زیادہ مال و اولاد والے تھے تو انھوں نے اپنے دنیوی نصیبہ سے فائدہ اٹھا لیا تو تم نے بھی اپنے حصہ سے فائدہ اٹھا لیا جس طرح تم
[2] سورۃ التوبہ: ۶۹۔