فهرس الكتاب

الصفحة 111 من 457

بات کرنے سے پہلے لوگوں کو چپ کرانا

سلسلۂ تعلیم کی کامیابی کی ایک اساسی اوربنیادی ضرورت طلبہ کا معلم کی گفتگو کو خاموشی سے سننا ہے۔ طلبہ کے سکوت اور خاموشی کے بغیر مدرس اپنی بات کیسے سمجھا سکتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب [الجامع الصحیح] میں ایک باب کا عنوان بایں الفاظ تحریر کیا ہے:

[بَابُ الْإِنْصَاتِ لِلْعُلَمَائِ]

[علماء کی بات خاموشی سے سننے کے متعلق باب]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کی شرح کرتے ہوئے تحریر کیا ہے:'' أي السُّکُوتُ وَالاِسْتِمَاعُ لِمَا یَقُولُونَہٗ۔ '' [1]

''یعنی ان کی بات کو خاموشی اور دھیان سے سننا۔''

امام ابن بطال رحمہ اللہ تعالیٰ نے تحریر کیا ہے:'' إِنَّ الْإِنْصَاتَ لِلْعُلَمَائِ لاَزِمٌ لِلْمُتَعَلِّمِیْنَ۔'' [2]

''علماء کی بات توجہ سے سننا طلبہ پر لازم ہے۔''

ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا شدت سے اہتمام فرماتے کہ سامعین آپ کی گفتگو خاموشی سے سنیں۔ توفیق الٰہی سے ذیل میں قدرے تفصیل سے اس بارے میں گفتگو کی جائے گی۔

[2] ملاحظہ ہو:المرجع السابق۱/۲۱۷۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت