فهرس الكتاب

الصفحة 394 من 457

لائق شاگردوں کی عزت افزائی

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طلبہ کی اچھی باتوں اور عمدہ کاموں کی ان کے سامنے تعریف فرماتے اور ان کی عزت افزائی فرماتے۔ توفیق الٰہی سے استاذ کا ایسا طرزِ عمل شاگردوں کے علم و عمل میں رسوخ پیدا کرنے اور ان میں اضافہ کے لیے سر توڑ جدو جہد کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ذیل میں توفیق الٰہی سے سیرت طیبہ سے اس کے متعلق چند ایک شواہد پیش کیے جارہے ہیں:

۱۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو علم کی مبارک باد:

امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:'' یَا أَبَا الْمُنْذِرِ! أَتَدْرِيْ أَيُّ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ مَعَکَ أَعْظَمُ؟ ''۔

قَالَ:قُلْتُ:'' اَللّٰہُ وَرَسُولُہ أَعْلَمُ ''۔

قَالَ:'' یَا أَبَا الْمُنْذِرِ! أَتَدْرِيْ أَيُّ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ مَعَکَ أَعْظَمُ؟''۔ قَالَ:قُلْتُ:'' { اللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ ھُوَ الْحَيُّ الْقَیُّوْمُ } ''۔

قَالَ:'' فَضَرَبَ فِيْ صَدْرِيْ، وَقَالَ:'' وَاللّٰہِ! لِیَھْنِکَ الْعِلْمُ أَبَاالْمُنْذِرِ! ''۔ [1]

'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:'' اے ابو المنذر! کیا تمہیں معلوم ہے کہ کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی تمہارے پاس موجود ہے؟ ''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت