فهرس الكتاب

الصفحة 346 من 457

کسی شخص سے غیر متوقع غلطی پر اظہارِ خفگی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرات صحابہ کو کتاب و سنت کی تعلیم دیتے اور ان کا تزکیہ فرماتے۔ جب ان میں سے کسی سے ایسی غلطی سرزد ہوتی، جس کی اس جیسے شخص سے توقع نہ ہوتی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفگی کا اظہار فرماتے اور غلطی پر ٹوکتے بھی تھے۔۔ سیرتِ طیبہ سے اس کے بارے میں کچھ شواہد توفیق الٰہی سے ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں:

۱۔ مسجد میں تھوکنے پر ناراضی:

امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' بَیْنَا النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یُصَلِّيْ رَأی فِيْ قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ نُخَامَۃً فَحَکَّھَا بِیَدِہٖ، فَتَغَیَّظَ، ثُمَّ قَالَ:'' إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا کَانَ فِي الصَّلاَۃِ فَإِنَّ اللّٰہَ حِیَالَ وَجْھِہٖ، فَلاَ یَتَنَخَّمَنَّ حِیَالَ وَجْھِہٖ فِي الصَّلاَۃِ ''۔ [1]

''ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ نے مسجد میں قبلہ کی جانب تھوک دیکھا،تو اس کو اپنے ہاتھ سے صاف کردیا اور ناراض ہوئے، پھر فرمایا:'' یقینا تم میں سے کوئی جب نماز میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، اس لیے کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے۔''

اس حدیث شریف سے یہ بات واضح ہے کہ مسجد کی دیوار میں تھوک دیکھ کر

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت