فهرس الكتاب

الصفحة 205 من 457

الْبَأْسِ حِیْنَ یُلْحِمُ بَعْضُہٗ [بَعْضُھُمْ] بَعْضًا۔'' [1]

''دو دعائیں مسترد نہیں ہوتیں یا شاید کم ہی مسترد ہوتی ہیں:اذان کے وقت کی دعا اور جنگ کے وقت جب کہ وہ باہم گتھم گتھا ہو کر ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہوں۔''

اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اجمالی طور پر اس بات کی خبر دی کہ دو اوقات میں دعا نا منظور نہیں ہوتی یا کم ہی مسترد ہوتی ہیں، پھر ان دونوں اوقات کی تفصیل بتلائی۔اس اجمالی آگاہی کے بعد تفصیل جاننے کے لیے اہل ایمان کی تڑپ اور شوق محتاج بیان نہیں۔

۲۔حلاوتِ ایمان پانے کے لیے تین خصلتیں :

امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

'' ثَلاَثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ بِھِنَّ حَلاَوَۃَ الْإِیْمَانِ:أَنْ یَّکُوْنَ اللّٰہُ وَرَسُولُہٗ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِمَّا سِوَاھُمَا، وَأَنْ یُحِبَّ الْمَرْئَ لاَ یُحِبُّہٗ إِلاَّ لِلّٰہِ، وَأَنْ یَّکْرَہَ أَنْ یَّعُودَ فِي الْکُفْرِ کَمَا یَکْرَہُ أَنْ یُّقْذَفَ فِي النَّارِ۔'' [2]

''تین [خصلتیں ] ایسی ہیں کہ جس میں وہ موجود ہوں،اس نے ان کے ساتھ ایمان کی مٹھاس کو پا لیا، اللہ تعالیٰ اور اُن کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں، وہ کسی بھی شخص سے محبت صرف اللہ

[2] صحیح البخاري، کتاب الإیمان، باب حلاوۃ الإیمان، رقم الحدیث ۱۶، ۱/۶۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت