فهرس الكتاب

الصفحة 410 من 457

٭ معوذتین کی قدرو منزلت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ فجر میں پڑھ کر مزید نمایاں اور واضح فرمایا۔ بلاشک و شبہ عملی طور پر کسی بات کا بیان زبانی بیان سے زیادہ قوی اور مؤثر ہوتا ہے۔ [1]

۲۔ اختلاف فتویٰ کے اثر کو نوٹ فرمانا:

امام احمدرحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

''کُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَجَائَ شَابٌّ، فَقَالَ:'' یَا رَسُولَ اللّٰہِ! صلی اللّٰه علیہ وسلم أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ ''۔

قَالَ:'' لاَ ''۔

فَجَائَ شَیْخٌ، فَقَالَ:'' أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ ''۔

قَالَ:'' نَعَمْ ''۔

قَالَ:فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلٰی بَعْضٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:'' قَدْ عَلِمْتُ لِمَ نَظَرَ بَعْضُکُمْ إِلٰی بَعْضٍ، إِنَّ الشَّیْخَ یَمْلِکُ نَفْسَہٗ ''۔ [2]

'' ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھے،کہ ایک جوان نے حاضر ہوکر عرض کیا:'' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں روزہ کی حالت میں بوسہ دے لوں ؟''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' نہیں۔''

ایک بوڑھا شخص حاضر ہوا اور عرض کیا:'' میں روزہ کی حالت میں بوسہ دے

[2] المسند ۲ ؍ ۱۸۵ (ط:المکتب الإسلامي) ۔ حافظ ہیثمی نے اس حدیث کے بارے میں لکھا ہے:احمد اور الطبرانی نے اس کو [المعجم] الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس میں ابن لہیعہ ہیں، ان کی حدیث حسن ہے [اگرچہ] ان میں کلام ہے۔ (ملاحظہ ہو:مجمع الزوائد ۳ ؍ ۱۶۶) ؛ نیز ملاحظہ ہو: (سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، رقم الحدیث ۱۶۰۶، ۴ ؍ ۱۳۸) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت