فهرس الكتاب

الصفحة 318 من 457

اورفیصلہ کرنے کے بارے میں بھی ہے۔''

اس سلسلے میں علامہ عینی رحمہ اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے:

'' وَفِیْہِ جَوَازُ فَتْوَی الْمَفْضُوْلِ بِحَضْرَۃِ الْفَاضِلِ إِذَا کَانَ مُشَارًا إِلَیْہِ بِالْعِلْمِ وَالْإِمَامَۃِ۔'' [1]

''اس سے اعلیٰ کی موجودگی میں ادنیٰ کے فتویٰ دینے کا جواز ثابت ہوتا ہے جب کہ وہ [ادنیٰ] علم و امامت میں معروف ہو۔''

۲۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صدیق اکبر کابیٹی رضی اللہ عنہما کو جھڑکنا:

امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' دَخَلَ عَلَيَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَعِنْدِي جَارِیَتَانِ تُغَنِّیَانِ بِغِنَائِ بُعَاثَ، فَاضْطَجَعَ عَلَی الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْھَہٗ۔ وَجَائَ أَبُوْبَکْرٍ رضی اللّٰه عنہ فَانْتَھَرَنِيْ، وَقَال:'' مِزْمَارَۃُ الشَّیْطَانِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ؟۔''

فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم، فَقَالَ:'' دَعْھُمَا''۔

فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُھُمَا فَخَرَجَتَا۔'' [2]

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو اس وقت میرے پاس دو بچیاں جنگ بعاث [کے قصوں ] کی نظمیں پڑھ رہی تھیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ گئے اور اپنے چہرے کو [دوسری طرف ] پھیر لیا۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے،تو انہوں نے مجھے ڈانٹا ا ور فرمایا:''یہ شیطانی آواز

[2] صحیح البخاري، کتاب العیدین، باب الحراب والدرق یوم العید، رقم الحدیث۹۴۹، ۲/۴۴۰۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت